گوہاٹی 13/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) آسام حکومت نے ریاست میں حکومتی امداد یافتہ سبھی مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان سبھی مذہبی اسکولوں کو ہائی اسکول اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں بدلا جائے گا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت اس کام کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرے گی۔البتہ جو مدرسے یا اسکول غیر سرکاری اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ چل رہے ہیں، وہ اپنے طریقے سے چلتے رہیں گے۔
آسام کے وزیر تعلیم ہیمنت بسوا شرما نے بتایا کہ سرکاری امداد یافتہ مدارس اور سنسکرت اسکولوں کو ہائی اسکول یا ہایئر سیکنڈری اسکول میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’بی جے پی کی قیادت والی حکومت عام لوگوں کے پیسوں کو ’مذہبی تعلیم‘ پر خرچ نہیں کرنا چاہتی اور یہ پالیسی پر مبنی فیصلہ ہے۔‘‘ خبر رساں ادارہ ’اے این آئی‘ کے ایک ٹوئٹ کے مطابق ہیمنت بسوا شرما کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے سبھی مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو ہائی اسکولوں اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ مذہبی اداروں کو فنڈ مہیا کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’غیر سرکاری اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ چل رہے مدرسے پہلے کے مطابق ہی چلتے رہیں گے، لیکن ایک ریگولیٹری ڈھانچہ کے مطابق اس کا نظام چلایا جانا چاہیے۔‘‘
ہیمنت بسوا شرما نے واضح کیا کہ اس طرح مذہبی مقصد کے لئے چلائے جانے والے اسکولوں کے لئے حکومت فنڈ نہیں دے گی اس لئے انہیں بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی نوکری نہیں جائے گی۔ ان اساتذہ کو گھر بیٹھے سبکدوش ہونے تک تنخواہ دی جائے گی۔ اسی کے ساتھ ان اساتذہ کو عام اسکولوں میں پڑھانے کا موقع بھی دیا جائے گا۔